آج کا سبق
تفہیم القرآن
مفسر: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی
سورۃ نمبر 9 التوبة
آیت نمبر 43
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَفَا اللّٰهُ عَنۡكَۚ لِمَ اَذِنۡتَ لَهُمۡ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا وَتَعۡلَمَ الۡـكٰذِبِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اے نبی ؐ ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ ﴿تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے﴾ تاکہ تم پر کھُل جاتا کہ کو ن لوگ سچے ہیں اورجھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔ 45
تفسیر:
سورة التَّوْبَة 45
بعض منافقین نے بناوٹی عذرات پیش کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت مانگی تھی، اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنے طبعی حلم کی بنا پر یہ جاننے کے باوجود کہ وہ محض بہانے کر رہے ہیں ان کو رخصت عطا فرمادی تھی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور آپ کو تنبیہ کی کہ ایسی نرمی مناسب نہیں ہے۔ رخصت دے دینے کی وجہ سے ان منافقوں کو اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا۔ اگر انہیں رخصت نہ دی جاتی اور پھر یہ گھر بیٹھے رہتے تو ان کا جھوٹا دعوٰئے ایمان بےنقاب ہوجاتا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں