صحت و علاج




وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لئے لازمی ہے۔ وٹامن ڈی، غذائی نالی میں کیلشیم کے انجذب میں مدد کرتا ہے، اور ہڈیوں کو مضبوط رکھتے ہوئے، خون میں کیلشیم اور فاسفیٹ کی معمول کی سطح کو برقرار رکھتا ہے۔ ہمارے جسم میں زیادہ تر وٹامن ڈی اس وقت بنتا ہے جب جلد پر دھوپ یا سورج کی روشنی پڑتی ہے۔ وٹامن ڈی کی معمولی سی مقدار کھانے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی کے اثرات

شیرخوار اور بچوں میں، وٹامن ڈی کی مسلسل کم مقدار، ان میں رکٹس کا مرض ہونے کا سبب بن سکتی ہے، جس کا نتیجہ نرم ہڈیوں، ہڈیوں کے فریکچرز، ناقص نشونما، اور خون میں کیلشیم کی کم سطحات کی صورت میں نکل سکتا ہے، جو تشنج کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اگر حاملہ خواتین خاطر خواہ مقدار میں وٹامن ڈی حاصل نہیں کرتی ہیں، تو ان کے بچوں میں پیدائش کے فوراً بعد ہی، خون میں کیلشیم کی کم سطح واقع ہو سکتی ہے یا انہیں بعد کے بچپن میں رکٹس ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بالغوں میں، وٹامن ڈی کی کمی اوسٹیومیلیشیا (نرم ہڈیوں) اور آسٹیوپوروسس (پھوٹک ہڈیوں) کی صورت میں نکل سکتا ہے جو ہڈیوں کے فریکچرز کے زیادہ امکانات کا باعث بن سکتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کم مقدار کو کینسر، ذیابیطس اور انفیکشن ہونے کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
دھوپ لگوانا اور وٹامن ڈی

وٹامن ڈی اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج کی روشنی براہ راست ہماری جلد پر پڑتی ہے۔ کھڑکی کے شیشہ کے پیچھے سے اپنی جلد کو سورج کے سامنے لانا، آپ کو وٹامن ڈی حاصل کرنے میں مدد نہیں کرتا ہے کیونکہ شیشہ دھوپ میں موجود الٹراوائلٹ بی (یو وی بی) کو مسدود کر دیتا ہے جو کہ وٹامن ڈی سن سکرین بنانے کے لئے ضروری ہوتی ہے اور جلد پر نسیجی دھبے بھی وٹامن ڈی کی تشکیل میں کمی لاتا ہے کیونکہ یہ یو وی بی کو جلد تک پہنچنے سے روکتا ہے۔

وٹامن ڈی کی مقدار جو ہم سورج کے سامنے آنے سے حاصل کرتے ہیں اس پر منحصر ہے کہ جلد کو کتنی دیر کے لئے اور کتنا زیادہ سورج کے سامنے لایا گیا،

جلد کی رنگت، موسم، آب و ہوا اور دن کا وقت کیا ہے۔ زیادہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لئے، آپ کی جلد کی چھوٹی جگہوں (مثلاً چہرہ اور ہاتھ) کو زیادہ وقت تک براہ راست دھوپ میں رکھنے کے مقابلے میں زیادہ بڑی جگہوں (مثلاً بازو، اورنچلی ٹانگوں) کو ایک مختصر وقت تک ظاہر کرنا بہترین ہے۔

زیادہ تر لوگوں کے لئے، وٹامن ڈی کی سطح کو زیادہ پر برقرار رکھنے کے لئے موسم گرما کے مہینوں کے دوران ہفتے میں دو سے تین بار ہاتھوں، چہرے اور بازوں کو 5 سے 15 منٹ تک سورج کے سامنے رکھنا کافی ہے۔ گہری رنگت کے حامل لوگوں کو سورج کے سامنے زیادہ دیر تک رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

موسم سرما میں دھوپ عام طور پر کم حدت کی حامل ہوتی ہے۔ موسم سرما میں وٹامن ڈی کی اسی سطح کو برقرار رکھنے کے لئے زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
وٹامن ڈی کے کھانے کے ذرائع

کچھ کھانے قدرتی طور پر وٹامن ڈی پر مشتمل ہوتے ہیں، مثالوں میں فیٹی مچھلی (مثلاً سالمن، سارڈینز، ٹیونا)، انڈے کی زردی اور جگر شامل ہیں۔
کچھ کھانے کی اشیاء، جیسا کہ گائے کا دودھ اور دودھ کی مصنوعات، سویاملک، پھلوں کا رس، ناشتہ کے اناج میں وٹامن ڈی شامل ہوتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے کھانے کے لیبل کی جانچ پڑتال کریں کہ کیا مصنوعات وٹامن ڈی کے ساتھ بہتر ہے۔

ان خوراکوں کا استعمال آپ کے وٹامن ڈی کے انٹیک میں مدد کرتا ہے؛ تاہم، صرف کھانے سے ہی کافی مقدار میں وٹامن ڈی حاصل کرنا مشکل ہے۔

آرام دہ طور پر جلد کی سورج کے سامنے نمائش سے وٹامن ڈی حاصل کرنا

بیرون خانہ سرگرمیوں کو ایک معمول بنا لیں۔ بیرون خانہ سرگرمیوں کے دوران روزانہ تھوڑی دیر کے لئے بازؤں، ہاتھوں اور چہرے کا سورج کے سامنے تکشف یا ورزش کرنا جسم کو وٹامن ڈی پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے۔

والدین کو روزانہ ایک مختصر وقت کے لئے شیرخوار اور بچوں کو باہر لے جانا چاہئے، تاکہ سورج کی روشنی ان کے سر، ہاتھ اور ٹانگوں پر پڑ سکے۔
وٹامن ڈی اور شیرخوار بچے

بچے، پیدائش سے قبل ماں سے وٹامن ڈی کی ایک تھوڑی سی مقدار حاصل کرتے ہیں۔ پیدائش کے بعد، بچوں کو سورج کی روشنی، چھاتی کے دودھ (یا فارمولہ دودھ، اگر وہ چھاتی کا دودھ نہیں پیتے)، اور کھانے کی اشیاء سے وٹامن ڈی حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چھاتی کا دودھ، بچوں کے لئے بہترین غذائیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، بچے چھاتی کے دودھ سے بہت زیادہ وٹامن ڈی حاصل نہیں کرتے ہیں خاص طور پر جب ان کی ماؤں میں وٹامن ڈی کی پہلے ہی کمی ہوتی ہے۔ کچھ ممالک میں، جیسا کہ برطانیہ اور امریکہ، چھاتی کا دودھ پینے والے بچوں کو وٹامن ڈی سپلیمنٹ دینے کی سفارش کی جاتی ہے۔

فارمولہ غذا والے بچوں کو عام طور پر ایک سپلیمنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ بچے کی فارمولہ غذا میں وٹامن ڈی پہلے ہی شامل ہوتا ہے۔

وہ لوگ جو خاطر خواہ وٹامن ڈی حاصل نہ کرنے کے خطرہ سے دوچار ہیں

وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے؛

بچے جن کی پیدائش ایسی ماؤں کے ہاں ہوتی ہیں جو وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں یا وہ براہ راست دھوپ میں نہیں جاتی، خاص طور پر، اگر انہیں صرف اور صرف چھاتی کا دودھ ہی پلایا جاتا ہے؛

صرف چھاتی کا دودھ پلائے جانے والے بچے جو سورج کی روشنی کے سامنے بہت کم لائے جاتے ہیں؛

بچے اور سیاہ جلدی رنگت کے حامل لوگ؛

وہ لوگ جو اپنا زیادہ تر وقت اندروں خانہ گزارتے ہیں؛

وہ لوگ جو کپڑے کے ذریعے اپنی تمام جلد کو ڈھانپے رکھتے ہیں؛

گردوں کے امراض، جگر کی بیماریوں اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا لوگ۔
اگر آپ کو اس بارے میں تشویش ہے، تو وٹامن ڈی کی اضافی خوراک کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لئے براہ کرم اپنے طبیب سے مشورہ کریں۔
[7/23, 3:49 PM] +92 310 3508004: ﺑﺎﺣﯿﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ
.
.
.
ﺑَﺼﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑُﺰُﺭﮒ ﺭﺣﻤۃ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ''ﻣِﺴﮑﯽ'' ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺸﮩُﻮﺭ ﺗﮭﮯ۔''ﻣُﺸﮏ'' ﮐﻮ ﻋَﺮَﺑﯽ ﻣﯿﮟ ''ﻣِﺴْﮏ'' ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣِﺴﮑﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽٰ ﮨﻮﺋﮯ ''ﻣُﺸﮑﺒﺎﺭ'' ﯾﻌﻨﯽ ﻣُﺸﮏ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒُﻮ ﻣﯿﮟ ﺑَﺴﺎ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﮦ ﺑُﺰُﺭﮒ ﺭﺣﻤۃ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﮨﺮ ﻭَﻗْﺖ ﻣُﺸﮑﺒﺎﺭ ﻭ ﺧﻮﺷﺒﻮﺩﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﺲ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﮔُﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﻣَﮩَﮏ ﺍُﭨﮭﺘﺎ! ﺟﺐ ﺩﺍﺧِﻞِ ﻣﺴﺠِﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒُﻮ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕِ ﻣِﺴﮑﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ، ﺣُﻀُﻮﺭ! ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﺮ ﮐﺜﯿﺮ ﺭﻗﻢ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﻮﮔﯽ؟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ'' :ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺧﺮﯾﺪﯼ، ﻧﮧ ﻟﮕﺎﺋﯽ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﺍﻗِﻌﮧ ﺑﮍﺍ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮨﮯ: ﻣﯿﮟ ﺑﻐﺪﺍﺩِ ﻣُﻌَﻠّٰﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺷﺤﺎ ﻝ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍُﻣَﺮﺍﺀ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩِﻟﻮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺑَﮩُﺖ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﺣﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟِﺪ ﺻﺎﺣِﺐ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ'' :ﺍﺳﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﺅ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭُﻞ ﻣِﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﮨﻮ۔'' ﭼُﻨﺎﻧﭽِﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑَﺰّﺍﺯ )ﯾﻌﻨﯽ ﮐﭙﮍﺍ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ( ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ ﺑُﮍﮬﯿﺎ ﻧﮯﮐﭽﮫ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮑﻠﻮﺍﺋﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑَﺰّﺍﺯ )ﯾﻌﻨﯽ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﺍﻟﮯ( ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ''ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐِﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﻭ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﺴَﻨﺪ ﮨﻮﮞ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﯿﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿّﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﺍﭘَﺲ ﻻﺋﮯ۔'' ﺑَﺰّﺍﺯ )ﺑَﺰْ۔ﺯَﺍﺯ( ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﺑُﮍﮬﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢُ ﺍﻟﺸّﺎﻥ ﻣَﺤَﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺯﯾﻮﺍﺭﺕ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﺳﺘﮧ ﺧﻮﺵ ﻟﺒﺎﺱ ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯽ ﺗَﺨْﺖ ﭘﺮ ﺑﭽﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣُﻨَﻘَّﺶ )ﻡُ۔ ﻧَﻖْ۔ ﻗَﺶْ ( ﻗﺎﻟﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﮯ، ﺗﺨﺖ ﻭ ﻓﺮﺵ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺯَﺭِّﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗَﺪَﺭ ﻧﻔﯿﺲ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻏﺎﻟِﺐ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﯿﮍ ﺧﺎﻧﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ''ﻣﻨﮧ ﮐﺎﻻ'' ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺩَﺭ ﭘَﮯ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ'' :ﺍﻟﻠﮧ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺳﮯ ﮈﺭ''! ﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺮﺡ ﻣُﺴَﻠَّﻂ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺿِﺪ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺳﻮﭺ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﺠﮭﮯ ﺍِﺳﺘِﻨﺠﺎﺀ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ﺗﻮ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟَﻮﻧﮉﯾﺎﮞ ﺁﮔﺌﯿﮟ، ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ'' :ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻗﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﺖُ ﺍﻟْﺨَﻼﺀ ﻣﯿﮞﻠﮯ ﺟﺎﺅ۔'' ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻭﮨﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﮦ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ''ﻣﻨﮧ ﮐﺎﻻ'' ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻋَﺰَّﻭَﺟَﻞَّ ﺳﮯ ﺣَﯿﺎ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﻋﺬﺍﺏِ ﺟﮩﻨَّﻢ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﺎ ﻏَﻠَﺒﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﭼُﻨﺎﻧﭽِﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍِﺳﺘِﻨﺠﺎ ﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻧَﺠﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻨﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﺎﻥ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﮐﻨﯿﺰ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﯾﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﮨَﺮ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭِﯽ، ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺩﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﯿﺨﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮈﺭ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﺎﮔﻞ، ﭘﺎﮔﻞ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺳﺐ ﻟﻮﻧﮉﯾﺎﮞ ﺍﮐﭩّﮭﯽ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻠﮑﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﺎﭦ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺟﺎﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺋﯽ۔ ﺍُﺳﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ'' :ﺗﻢ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪُﻧﺎ ﯾﻮﺳُﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﺧﻮﺏ ﻣُﻨﺎﺳَﺒَﺖ ﮨﮯ'' ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺗﻮ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﯿﮟ ﺟِﺒﺮﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼم ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﺟِﺴْﻢ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘَﮭﯿﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍُﺳﯽ ﻭَﻗْﺖ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺟِﺴْﻢ ﺳﮯ ﻣُﺸﮏ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿِّﺪُﻧﺎ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮٰۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﺳﺖِ ﻣﺒﺎﺭَﮎ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﮯ۔ )ﺭَﻭْﺽُ ﺍﻟﺮَّﯾﺎﺣِﯿﻦ ﺹ۳۳۴ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﮑﺘﺐ ﺍﻟﻌﻠﻤﯿۃ ﺑﯿﺮﻭﺕ

تبصرے

Contact Us

نام

ای میل *

پیغام *

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جماعت اسلامی کو لوگ ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

میں کون ہوں؟