The Chenab Saga پار چناں دے چندربھاگا سے چناب تک کا سفر پہلا حصہ کچھ سال پہلے کوک سٹوڈیو نے ایک گانا ریلیز کیا تھا جس کے بول کچھ یوں تھے ”پار چناں دے دسے کُلی یار دی گھڑیا گھڑیا آوے گھڑی“ یہ گیت بہت مشہور ہوا تھا جس میں سوہنی مہیوال کی کہانی بیان کی گئی تھی جو بپھرے ہوٸے چناب میں گھڑے پہ تیر کہ پار اپنے محبوب مہیوال سے ملنے جایا کرتی تھی۔ تب سے سوچ رہا تھا کہ محبت کی داستانوں کے امین، چناب کی اپنی کہانی بھی سن لینی چاہیئے کہ سرحد پار ”چندربھاگا“ کے نام سے جانا جانے والا یہ دریا بہت قدیم ہے جس کا ذکر ویدوں میں بھی ملتا ہے۔ پرانے لوگوں نے بھی دریاؤں کی تقسیم کچھ یوں کی تھی راوی راکشاں سندھ صادقاں چناب عاشقاں یوں چناب کے حصے میں محبت آٸی کہ یہ دریا محبتوں کی کئی کہانیاں بھی اپنے ساتھ بہائے کشمیر و پیر پنجال سے پنجاب دھرتی تک لاتا ہے۔ اور پنجاب دھرتی تو ہے ہی رومان کی سرزمین جہاں چناب کنارے ہیر رانجھا ، مرزا صاحباں اور سوہنی مہیوال جیسی تین بڑی رزمیہ کہانیوں نے جنم لیا ہے۔ اس لیئے اگر یہ کہا جائے کہ چناب کے پانیوں میں عشق بہتا ہو تو چنداں غلط نہ ہو گا۔ کیا وجہ ہے کہ یہ دری...
اللہ اکبر وفاقی حکومت نے وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خلاف اپنے اپیلیں اور کیس واپس لے لیا۔۔۔۔ آج کے بعد وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے بینکوں سے سود ختم کرنے کے احکامات جاری۔۔۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد ہوگا وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے پریس کانفرنس یاد رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے 32سال بعد جماعت اسلامی پاکستان کے کیس پر گزشتہ 27 رمضان المبارک کو ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا ۔۔سود کے خلاف اس فیصلے کے وقت امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جماعت اسلامی پاکستان کے تمام کارکنان کو مبارکباد If you like my opinion please comments and share with your family and friends. Regards: An emerging blogger and team.
نوٹ۔ یہ 2018 کے فیفا عالمی کپ کے بعد کی تحریر ہے۔ قصاب کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔ 1979 کے سخت ترین جاڑے کی ایک اتنی ہی سرد اور اداس شام تھی۔ یوگوسلاویہ کے دورافتادہ اور پسماندہ گاوں میں ایک قصاب بخار میں پھنک رہا تھا۔ پریشانی اس کے چہرے پہ عیاں تھی ۔ کسی نہ کسی طرح ہمت جمع کرکےاس نے گوشت تو بنا لیا- مگر ریستوران تک پہنچانا اسے عذاب لگ رہا تھا۔ اتنے میں اسکی 11 سالہ بیٹی سکول سے لوٹی۔ باپ کو پریشان دیکھ کر ماجرہ سمجھ گئی۔ برفباری میں گوشت سے لدی بھاری بھرکم ریڑھی کھینچ کر ریستوران تک چھوڑ آئی۔وہ مڈل کلاس میں گاوں کے سکول میں اول آئی۔ تب امریکہ میں ہائی سکول میں وظیفے کا امتحان منعقد ہوا ۔ وہ اس میں منتخب ہونے والے چند طلبہ میں سے ایک تھی۔ اسے پڑھنے اور محنت کرنے کا جنون تھا۔ جو بالآخر اسے جارج ٹاؤن سے ہوتا ہوا ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی سکول میں لے گیا۔ چند برس کی محنت شاقہ کے نتیجےمیں وہ امور خارجہ میں ماہر سمجھی جانے لگی۔ امریکہ میں اپنے ملک کی پہلی خاتون سفیر مقرر ہوئی۔ وزارت خارجہ کا مشکل فریضہ انتہائی خوبصورتی سے نبھایا ۔ اسی خاتون کو چند روز قبل ساری دنیا نے ستائش بھری نظروں سے FIF...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں